اسامہ بن لادن کی مددکرنیوالے شکیل آفریدی اس وقت کہاں اورکس حال میں ہیں

0 128

پشاور:سماعت پر اس کیس کو نمٹانے کے متعلق ریمارکس دیے تھے۔ ان کے وکیل کو اگلی سماعت میں پیش رفت کی امید ہے۔لطیف آفریدی نے کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ کیا فیصلہ ہو گا لیکن وہ موجود حقائق کی بنیاد پر دلائل دے سکتے ہیں جس سے وہ عدالت کو مطمئن کر سکتے ہیںاور ان حقائق اور دلائل کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ شکیل آفریدی کے خلاف جرم اب تک ثابت نہیں ہوا۔ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ شکیل آفریدی نے بہت وقت جیل میں گزارا ہے اور انھیں ساہیوال جیل منتقل کرنا بھی غلط ہے اورغیر قانونی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے خاندان کے افراد کی ملاقات بھی مشکل سے ہوتی ہے اور اتنی دور کسی قیدی کو رکھنا انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2011 میں پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے امریکہ کے لیے جاسوسی کی اور اسامہ بن لادن کے خلاف کیے گئے ایبٹ آباد آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ان الزامات کے باوجود انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں دی گئی تھی۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے انھیں تین مقدمات میں کل 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے پہلے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل فاٹا ٹرائبیونل میں دائر کی گئی تھی جہاں پہلے ٹرائیبیونل کے اراکین پورے نہیں تھے اور بعد میں ریکارڈ کی طلبی اور عدم تیاری کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی تھی۔خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد بھی اب پشاور ہائی کورٹ میں بھی ان کے مقدمے کی سماعت متعدد مرتبہ ملتوی ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کئی سال تک پشاور کی سینٹرل جیل میں قید رہے اور پھر سکیورٹی خدشات کے باعث انھیں اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔

Facebook Comments