ارکان سینیٹ نے ایلس ویلز کا سی پیک مخالف بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قراردیا

0 140

اسلام آباد(صباح نیوز): ارکان سینیٹ نے امریکی وزیر خارجہ کی معاون خصوصی برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز کے سی پیک مخالف بیان کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے وضاحت مانگ لی۔
سینیٹ کا اجلاس نماز جمعہ کے وقفے کے بعد ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا۔ سینیٹر حاصل بزنجو نے نکتہ اعتراض پر ایلس ویلز کے سی پیک مخالف بیان کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ سی پیک میں بلیک لسٹڈ کمپنیوں کو ٹھیکہ دینے کے امریکی الزام پر چین کی وضاحت آئی لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی الزام پر وضاحت نہیں آئی۔
وزیر اعظم سی پیک میں بلیک لسٹڈ کمپنیوں سے متعلق امریکی الزام کی وضاحت دیں۔لیگی سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ ایلیس ویلز کا بیان پاکستان کے اندورنی معاملے میں مداخلت ہے۔ سی پیک کے کسی منصوبے میں ایک روپے کی کرپشن سامنے نہیں آئی۔ وزیراعظم حجاب سے نکلیں اور ایوان میں آکر بیان دیں۔
پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں اپنے بیان میں کشمیر کی بجائے افغانستان کو پہلی ترجیح قرار دیا۔ حکومت نے کشمیر پر بھی یوٹرن لے لیا ہے۔قائد ایوان شبلی فراز نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا ذیادتی ہے کہ ہم چین سے امریکہ کی جانب جا رہے ہیں۔ ہمارے کسی بھی ملک سے تعلقات کی بنیاد قومی سلامتی اور قومی مفاد ہے۔
وزیر اعظم اور وزیرخارجہ سے سینیٹ میں آکر اس معاملے پر بیان دینے کی درخواست کروں گا۔وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے سینیٹ کو بتایا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر کام رک گیا ہے۔ حکومت کے پاس فنڈز موجود ہیں لیکن منصوبے پر مزید پیشرفت ایران سے امریکی پابندیاں ختم ہونے سے مشروط ہیں۔ دو ہزار پچیس تک انرجی مکس کو بہتر کر کے قیمتیں مزید نیچے لائیں گے۔وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے خواتین کے ملکیتی حقوق سے متعلق آرڈیننس پیش کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے آرڈیننس کی مخالفت کی گئی۔

Facebook Comments