آٹے کی قیمت سن کرہرکوئی سناٹے میں ہے۔سونامی اب غریب عوام کو روٹی کے ٹکڑے سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے،سینیٹرسراج الحق

0 138

بھمبر(صباح نیوز): امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آٹے کی قیمت سن کر ہر کوئی سناٹے میں ہے۔سونامی اب غریب عوام کو روٹی کے ٹکڑے سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے۔ اویات کی قیمتوں میں دوسو فیصد پر اضافہ ہوچکا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب کے لیے علاج مشکل ہوچکا ہے۔
اب تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی تین سو کی بجائے بارہ سو میں ملنے لگا ہے۔ حکومت کو اب ایک یوٹرن مہنگائی کے خلاف اور غریب عوام کے حق میں بھی لینا چاہیے ،جماعت اسلامی کوحکومت کا موقع ملا تو دل،گردوں اور جگر سمیت پانچ بڑی بیماریوں کا مفت علاج ہوگا،حکمرانوں کی بداعمالیوں کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑرہی ہے
ان خیالات کا اظہار سینیٹر سراج الحق نے بھمبر آزاد کشمیر میں رحمان چلڈرن ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے بھی کیا خطاب کیا۔اس موقع پر علاقے کی معرو ف سماجی شخصیات ڈاکٹر عبدالعزیز اور ڈاکٹر عبدالرحمان بھی موجود تھے،سراج الحق نے کہا کہ قرضے اور غلامی کے فیول پر حکومتی گاڑی کب تک چلے گی۔ جاپان اور کوریا جیسے ترقی یافتہ ممالک تسلیم کرچکے ہیں کہ سود معاشی ترقی کی راہ میںسب سے بڑی رکاوٹ ہے مگر آئی ایم ایف کے غلام حکمران ماننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو افلاطون سمجھنے والے کسی سے مشاورت کے قائل نہیں۔ہمیں کہتے ہیں کہ آپ اسلام کی بات کرتے ہیں اس لیے ہم آپ کی بات نہیں سن سکتے۔
شریعت میں تعلیم صحت اور معیشت کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ملک کے ماہرین معیشت کی بہترین ٹیم معاشی زبوں حالی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔مگر حکمران آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق گلے سے اتارنے کے لیے تیار نہیں۔حکمرانوں نے کل ملکی پیداوارکا91فیصد قرض لیا ہے حالانکہ آئین 60فیصد سے زائد قرض لینے کی اجازت نہیں دیتا۔آج اچھا وزیرخزانہ اسے سمجھا جاتا ہے جو زیادہ قرض لیتا ہے۔بجلی کا چند ہزار بل نہ دینے والے کو تو پکڑ کر جیل بھیج دیا جاتا ہے مگر ملک پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ لادنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔حکمرانوں کی بداعمالیوں کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑرہی ہے۔وزراء بداخلاقی اور نااہلی میں ساری دنیا کے وزارء کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ادویات کی قیمتوں میں دوسو فیصد پر اضافہ ہوچکا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں غریب کے لیے علاج مشکل ہوچکا ہے۔اب تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی تین سو کی بجائے بارہ سو میں ملنے لگا ہے۔جماعت اسلامی کوحکومت کا موقع ملا تو دل،گردوں اور جگر سمیت پانچ بڑی بیماریوں کا مفت علاج ہوگا۔۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم سے چوکیدار تک ہر کوئی ماحول کی خرابی کا ماتم کرتا ہے مگر حالات کو سدھارنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ۔معیشت کی تباہی اور بربادی کا سبب سودی قرضے ہیں لیکن حکمران ہرروز نئے قرضے لے رہے ہیںاورمعیشت میں بہتری کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ورلڈ بینک کے کلرکوں پر تو اندھا اعتماد کرتی ہے مگر اپنے ملک کے مخلص ماہرین معیشت پر اعتماد کرنے کو تیار ہے نہ ترقی و خوشحالی کے اس معاشی نظام پراعتبار کرتی ہے جس کی ضمانت خود اللہ تعالی نے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے قوم کو آئی ایم ایف کی معاشی غلامی کے شکنجے میں کس دیا ہے۔سودی معیشت استحصالی نظام ہے جو غریب سے اس کا سب کچھ چھین لیتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینیٹر سراج الحق نے بھمبر آزاد کشمیر میں رحمان چلڈرن ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے بھی کیا خطاب کیا۔اس موقع پر علاقے کی معرو ف سماجی شخصیات ڈاکٹر عبدالعزیز اور ڈاکٹر عبدالرحمان بھی موجود تھے،سراج الحق نے کہا کہ قرضے اور غلامی کے فیول پر حکومتی گاڑی کب تک چلے گی۔ جاپان اور کوریا جیسے ترقی یافتہ ممالک تسلیم کرچکے ہیں کہ سود معاشی ترقی کی راہ میںسب سے بڑی رکاوٹ ہے مگر آئی ایم ایف کے غلام حکمران ماننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو افلاطون سمجھنے والے کسی سے مشاورت کے قائل نہیں۔ہمیں کہتے ہیں کہ آپ اسلام کی بات کرتے ہیں اس لیے ہم آپ کی بات نہیں سن سکتے۔

شریعت میں تعلیم صحت اور معیشت کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ملک کے ماہرین معیشت کی بہترین ٹیم معاشی زبوں حالی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔مگر حکمران آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق گلے سے اتارنے کے لیے تیار نہیں۔حکمرانوں نے کل ملکی پیداوارکا91فیصد قرض لیا ہے حالانکہ آئین 60فیصد سے زائد قرض لینے کی اجازت نہیں دیتا۔آج اچھا وزیرخزانہ اسے سمجھا جاتا ہے جو زیادہ قرض لیتا ہے۔بجلی کا چند ہزار بل نہ دینے والے کو تو پکڑ کر جیل بھیج دیا جاتا ہے مگر ملک پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ لادنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔حکمرانوں کی بداعمالیوں کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑرہی ہے۔وزراء بداخلاقی اور نااہلی میں ساری دنیا کے وزارء کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ادویات کی قیمتوں میں دوسو فیصد پر اضافہ ہوچکا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں غریب کے لیے علاج مشکل ہوچکا ہے۔اب تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی تین سو کی بجائے بارہ سو میں ملنے لگا ہے۔جماعت اسلامی کوحکومت کا موقع ملا تو دل،گردوں اور جگر سمیت پانچ بڑی بیماریوں کا مفت علاج ہوگا۔۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم سے چوکیدار تک ہر کوئی ماحول کی خرابی کا ماتم کرتا ہے مگر حالات کو سدھارنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ۔معیشت کی تباہی اور بربادی کا سبب سودی قرضے ہیں لیکن حکمران ہرروز نئے قرضے لے رہے ہیںاورمعیشت میں بہتری کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ورلڈ بینک کے کلرکوں پر تو اندھا اعتماد کرتی ہے مگر اپنے ملک کے مخلص ماہرین معیشت پر اعتماد کرنے کو تیار ہے نہ ترقی و خوشحالی کے اس معاشی نظام پراعتبار کرتی ہے جس کی ضمانت خود اللہ تعالی نے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے قوم کو آئی ایم ایف کی معاشی غلامی کے شکنجے میں کس دیا ہے۔سودی معیشت استحصالی نظام ہے جو غریب سے اس کا سب کچھ چھین لیتا ہے۔

Facebook Comments